انتباہ: یہ ارٹیکل مصنف کی اجازت کے بغیر نقل نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ عمل قانونً جرم ہے۔

پاکستان میں 25 جولائی 2018 بروز بدھ کو عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں ۔اس الیکشن میں ملک بھر سے قومی اسمبلی کی 272 نشستوں پر انتخاب ہو گا …اسی طرح سندھ اسمبلی کی 130 ،کے پی کے اسمبلی کی 99 ، بلوچستان اسمبلی کی 50 اور پنجاب اسمبلی 297 کی

نشستوں پر انتخابات ہونگے

یہ ہماری بدقسمتی ہے کے آج تک ہونے والے تمام انتخابات متانازع رہے ہے …..لوگوں نے بے انتہا اُمیدیں ابھی سے اس انتخاب سےوابستہ کر لی ہے لیکن چند تلخ حقائق میں آپ لوگوں کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔

پہلی بات تو یہ کے میں نے ایک سال قبل اپنے بلاگ میں ممکنہ دھاندلی برائے مردم شماری کا ذکر کیا اور ساتھ ساتھ متنازع حلقہ بندیوں کا ذکر کیا میں کوئی بہت بڑا فلاسفر نہیں مگر یہ خدشات سچ ثابت ہوۓ اور پورے ملک نے مردم شماری اور حلقہ بندیوں کو مسترد کر دیا کراچی کی نمائندہ جماعت تقسیم ہو گئی ہے اور اب کراچی میں یہ تاثر جنم لے رہا ہے کے یہاں کی حقیقی نمائندہ لیڈر اور جماعت کو سیاست کرنے کی اجازت نہیں بلکہ خدا نہ خستہ اب کراچی کی پہچان راہ حق پارٹی ، تحریر لبیک پاکستان اور ایم ایم اے جیسی تنگ نظر جماعتیں ہونگی

اسی طرح پچھلے ایک سال سے لوگوں کی ایک مخصوص جماعت میں شمولیت کا سلسلے جاری رہا اور ایک عام تاثر ہے کے ایسا نیچرل پراسیس کے تحت نہیں ہوا ….دوسری جانب جس طرح نواز شریف اور ان کے خاندان کا احتساب ہوا کے جس عدالت میں 40سے زائد اور مقدمات زیر سماعت ہیں وہاں صرف ایک مقدمے کا فیصلہ ہی کیوں اتنی جلدی آیا ؟ اور جیسے ہی سزا اور گرفتاری ہو گئی تو اپیل کے مقدمہ کو الیکشن کے بعد مقرر کر دیا گی۔ بلوچستان حکومت کا گرنا، جوڈیشل ایکٹیوزم کا ہونا اور عین موقع پر امیدواروں کا پارٹی ٹکٹ واپس کر دینا اس بات کا ثبوت ہے کے کچھ تو غیر معمولی ہے۔

علاوہ ازی میڈیا پر بےجا سینسرشپ نے بھی کئی سوالات جنم دیے۔ انتخابات کے حوالے سے انٹرنیشنل میڈیا بل خصوص بی بی س، نیو یارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ ، ال جزیرہ، بلوم برگ، دا گارڈین، فنانسشیل ٹائمز نے سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے ۔

تاریخ گواہ ہے مصنوعی قیادت جب بھی قوم پر مسلط کرنے کی کوشش کی ہے تو قوم نے اس کوشش کو مسترد کر دیا …..25 جولائی کے بعد انے والی حکومت زیادہ عرصے قائم رہتی نظر نہیں آتی اور ملک میں حالات غیر یقینی کا شکار ہوتے نظر آرہے ہیں۔ پاکستان کی بقا لوگوں کو حقوق دینے میں اور لوگوں کی رائے کا احترام کرنے اور ہر ادارہ کا اپنی حدود میں رہ کر کام کرنے میں پنہا ہے۔ میں دعا گو ہو کے میرا ملک ترقی کرے اور اس میں مستقل امن قائم ہو….آمین

تحریر:عبّاس حیدر

Advertisements