انتباہ: یہ ارٹیکل مصنف کی اجازت کے بغیر نقل نہیں کیا جاسکتا۔ یہ عمل قنانونً جرم ہے۔        


                              

                                                   !…مخمصہ

ہم پاکستانی بحیثیت قوم انصافی یا لیگی یا کسی بھی اور جماعتی وابستگی سے ہٹ کر کیا صرف پاکستان کے لیے سوچتے ہیں کیا آئین و قانون کی بالادستی چاہتے ہیں کیا پائیدار اور مستحکم معیشت طویل المیعاد امن اور سیاسی استحکام چاہتے ہیں یا ہمیں صرف وہی امن معیشت اور قانون چاہیے جو ہماری سیاسی جماعت کو سوٹ کرتا ھے یا جسے وہ اس ملک کے لیے ضروری خیال کرتی ھے؟  یہ وہ سوالات ہیں جو کبھی کبھار مجھ جیسے ایک عام پاکستانی کے زہن میں بھی آتے ہیں جو پاکستان کے مفاد کے آگے اپنی سوچ کے مطابق نا کسی سیاسی جماعت سے محبت کرتا ھے نا ہی نفرت جسے باوجود پسندیدگی کے بعض اوقات اپنی سیاسی جماعت کی خامیاں بھی نظر آجاتی ہیں اور شدید اختلافات کے باوجود مخالف جماعتوں کی خوبیاں بھی جو جمہوریت کو ملک کی بقا کا رستہ سمجھ کر اسکی حمایت کرتا ھے اور آمریت اور فاشزم کی کسی بھی شکل کو ملک کے لیے زہر قاتل سمجھتا ھے، جسے جمہوریت میں آمریت اور آمریت میں جمہوریت کی جھلک بھی نظر آتی ھے مگر وہ سمجھتا ھے آمریت کی کوکھ سے عارضی جمہوریت جنم لے سکتی ھے مستقل نہیں جبکہ جمہوریت کی کوکھ سے آمریت جنم لے سکتی ھے مگر مستقل نہیں

ہم عارضی ترقی کو چاہے وہ آمریت مہیا کرے یا جمہوری آمریت کچھ دیر اسکے سحر میں مبتلہ ہو کر اسکے مضمرات کو فراموش کر دیتے اور ترقی ترقی کا شور مچانے لگتے ہیں اور جمہوری آمر کو قوم کا نجات دہندہ تصور کر لیتے ہیں. 

ملک کو غیروں کے ہاتھوں گروی رکھ کر اور غیر ملکی مالیاتی اداروں یا ایجنسیوں کے ایجنڈے پہ عمل کرنے والا اگر تیل اور ڈالر چند روپے سستا کر دے تو ہم آنکھیں بند کر کے اسے مہاتیر محمد اور کمال اتاترک مان لیتے ہیں یہ دیکھے بغیر کے آنے والے وقتوں میں یہی قرضے ہمارے منہ سے روٹی کا نوالہ اور بچوں کی دوائی تک چھین لینگے. 

افسوس سے کہنا پڑتا ھے پرویز مشرف کو گالیاں بکنے والے ن لیگی نواز شریف کے شیدائی ہیں اور نواز شریف کو گالیاں بکنے والے انصافی (عمران خان نہیں) پرویز مشرف کے پرستار جبکہ مشرف اور نواز شریف ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں. 

مشرف نے ایک آئینی اور منتخب حکومت کو ختم کیا اور بلا کسی اخلاقی جواز کے ملک پہ دس سال حکومت کی جس میں کئی معاملات میں ملک میں ترقی ہوئی پیسہ آیا ڈالر سستا ہوا بینکنگ کا شعبہ مضبوط ہوا عام آدمی کو روزگار ملا مگر……حاصل کیا ہوا؟؟ 

وہی وقتی فوائد جو اسکے پیشرو ایوب خان اور ضیاء دور میں ملے مگر ایوب جاتے جاتے ملک کو دو لخت کرنے کی بنیاد رکھ کر چلا گیا جو اپنے گیارہ سالہ دور میں ملک کو متفقہ دستور تک نا دے سکا بلکہ انگریز سے لیے گئے نظام کی شکل بھی بگاڑ گیا. 

ضیاء کے دور میں بھی ڈالروں کی برسات ہوتی رہی ملک خطرات میں گھرا رہا مگر وہ خطرات اسکے دور میں ہمارے گھروں تک صرف ہیروئین اور کلاشنکوف کی نمائش تک ہی آئے مگر اسکے جانے کے بعد وہی جہادی ہم سے آسیب کی طرح چمٹ گئے اور پونے دو لاکھ لوگ ضیاء اور مشرف اور اسکے بعد سے ابتک  لقمہ اجل بن چکے جسکے بعد لولی لنگڑی   جمہوریتوں کے بیس سالہ دو ادوار آئے جس میں چھ حکومتیں اور چند نگران حکومتوں نے حکمرانی کی.

پیپلزپارٹی کے سوا کوئی بھی حکومت اپنی مدت پوری نا کرسکی اور برطرف کر دی گئیں کہ عوام سستے ڈالر اور سستے پیٹرول پہ ہی جان لٹانے کو تیار تھے وہ ہر اس بات کو سچ ماننے اور ایمان لانے کو تیار تھے جس میں جمہوری حکمرانوں کے کرپشن کے قصے یا الزامات ہوں جو کسی حد تک درست بھی تھے مگر لوگوں نے سوچنے کی زحمت ہی نہیں کی کہ کوئی جمہوری حکومت دو سال میں کیسے انہیں ڈلیور کر سکتی ھے جبکہ اسے نا تو حکمرانی کا تجربہ ہو نا پیسہ ہو نا اسے اپنے مستقبل کا پتہ ہو ایسے حالات میں جو بھی آنا ہوتا وہ اپنے گزشتہ اور آئیندہ الیکشن کے اخراجات پہلے نکالتا اسکے بعد ہی کام کرتا… مگر انہیں گزشتہ اور اگلے الیکشن کے اخراجات نکالنے کا وقت اور موقع تو ضرور دیا گیا مگر آخری دو تین سال جو وہ حکومت عوام کے لیے کچھ کر سکتیں وہ موقع انہیں بلکل نہیں دیا گیا. 

نئی نئی سیاسی جماعتیں اور اتحاد تشکیل دیئے گئے نئے نئے لیڈرز بنائے گئے جنکے خاندان کاروبار، کردار امانت دیانت سب مشکوک تھے

جنکے لیے سیاست عبادت نہیں بلکہ کاروبار بدمعاشی طاقت کی نمائش اور کرپشن کا زریعہ تھی….انکے رہن سہن لباس اور بات چیت سے کہیں اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ یہ لوگ کسی نظریہ قوم یا قوم کے درد کو جانتے یا سمجھتے بھی ہیں…..جنکی سیاست کا محور انکے نام نہاد لیڈر کی جائز ناجائز صفائیاں پیش کرنا اٹھتے بیٹھتے قصیدے اور مدع سرائیاں کرنا تھا. 

سیاست دانوں کا یہ طبقہ عوامی مسائل سے نابلد مگر عوام رائے (ووٹ) کو خریدنے چھیننے لوٹنے کے فن سے پوری طرح آشنا تھا جو ظاہر ھے ریاستی مشینری کے تعاون بغیر ممکن ہی نہیں ہوتا ایسے میں جعلی ڈگریاں بھی چلتی رہیں جعلی حلقے بھی بنتے رہے جعلی ووٹر لسٹیں بھی بنتی رہیں اور جعلی لوگ جعلسازی سے 

‏منتخب بھی ہوتے رہے 

اتنی طویل تمہید باندھنے کا مقصد یہ تھا کیا ہم ایسے حالات میں پرویز مشرف کو ہی غاصب حکمران کہہ سکتے ہیں کیا جمہوریت کا چولا پہن کا عوام کے حق رائے دہی پہ ڈاکہ ڈالنے والے لوگ جو الیکشن جیت کا حکمران جماعت یا اتحادیوں میں شامل ہو کر حکومت کرتے یا حکومت کے مزے لوٹتے یا قانون سازی کرتے ہیں کیا اس قانون سازی کی کوئی کریڈیبلٹی ہوتی ھے؟؟  

آخر کیا وجہ ھے الیکشن ہوتے ہی سال بعد حکومتوں کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوجاتا ھے؟؟  

حکومت کو ووٹ دینے والے دو کروڑ لوگ کہاں چھپ کر بیٹھ جاتے ہیں اور اپوزیشن کے لوگ کون کون سے کونے کھدروں سے نکل آتے ہیں؟؟ 

– اور ایسے موقع پہ حکومتی جماعت ایسے ہی جعلی مینڈیٹ کو بچانے کے لیے عوام کے ہی پیسے کا بے دریغ استعمال کر کے سیاسی رشوتیں بانٹتی ھے ترقیاتی کاموں کے لیے اتنی اتنی بڑی رقومات کا اعلان کرتی ھے جن سے آدھی رقومات کے حصول کے لیے چند دن پہلے وہ اپنے قومی اثاثے گروی رکھ رہی تھی،  آیا یہ پیسہ حکومت کے باپ کا پیسہ ہوتا ھے جسے وہ اپنا اقتدار بچانے کے لیے بنا سوچے سمجھے ہر جلسے میں ترقیاتی کاموں کے لیے خرچ کرنے کا اعلان کرتی ھے؟؟  یا پھر یہ جھوٹے وعدے ہوتے ہیں؟؟ 

– دونوں صورتوں میں یہ دھوکہ دہی اور ملک دشمنی ھے مگر ہم تو ترقی کو ترسی ہوئی وہ بھوکی ننگی قوم بن گئے ہیں جو اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی کھو چکے ہیں. 

– ہم یہ سمجھنے کو تیار ہی نہیں کہ یہ لیڈر یہ سب کر کے ہم پہ مزید پانچ سال مسلط ہونے کے خواب دیکھ رہا ھے اور آج یہ جو ہمیں مفت میں کھلا رہا ھے اسکا بل ہمیں اسکی اگلی مدت میں سود سمیت دینا ہوگا……ملک کی اصل ترقی پلوں سڑکوں پارکوں ٹرینوں سے نہیں بلکہ قانون کی حمکرانی کرپشن کی حکومتی سطح پہ روک تھام اور اداروں کو سیاسی اثرات سے پاک کرنے میں ھے ہر ادارے کی بے رحم اکاؤنٹیبلٹی میں ھے جہاں کوئی افسر ایک لاکھ روپے رشوت لیتے ہوئے کانپ جائے….

– ایسا معاشرہ تشکیل دینے کے بعد آپ جو پل بنائیں گے وہ گرے گا نہیں جو سڑک بنائینگے وہ ٹوٹے گی نہیں جو ٹرین چلائینگے وہ رکے گی نہیں. 

– ہمیں سمجھنا چاہیے ہمیں غیر آئینی حکمران نہیں چاہیے چاہے وہ فوجی وردی میں ملبوس ہو یا شیروانی میں.
ایڈیٹوریلسٹ کا نام: طارق خان

میں ٹوئٹر پر اس نام سے ہوں: @TRKhan115 

Advertisements